’’بابری مسجدکی جگہ زبردستی رام مندر تعمیر کا ناجائز دعوی کرنے والے فسطائی عناصر ملکی عدالت کو 50 ہزار بلیدانی کی دھمکی نہ دیں ‘‘۔ ملک کے سواسو کروڑ ہندستانی کبھی بھی ملکی حالات خراب ہونے دینے کے لیے تیار نہیں، سنگھی غنڈے اپنی اوقات میں رہیں۔آل انڈیا امامس

۱۲؍ مئی، ۲۰۱۶ء ؁، مطابق: ۴؍ شعبان المعظم ۱۴۳۷ھ ؁، شاہین باغ ، نئی دہلی۔
’’بابری مسجدکی جگہ زبردستی رام مندر تعمیر کا ناجائز دعوی کرنے والے فسطائی عناصر ملکی عدالت کو 50 ہزار بلیدانی کی دھمکی نہ دیں ‘‘۔
ملک کے سواسو کروڑ ہندستانی کبھی بھی ملکی حالات خراب ہونے دینے کے لیے تیار نہیں، سنگھی غنڈے اپنی اوقات میں رہیں۔آل انڈیا امامس کونسل

’’بابری مسجد اس ملک کی پونے پانچ سو سالہ وراثت ہے۔ اس کو ڈھانے والوں کو فوری طور پر قانونی سزا دی جائے۔یہ ملک بابری مسجد کی عزت کو کبھی بھی سنگھیوں کے ہاتھوں پامال ہونے نہیں دے گا۔ بابری مسجد صرف مسلمانوں کا نہیں، اس ملک کا مسئلہ ہے ، اس کی جمہوریت کا مسئلہ ہے۔یہاں کے سواسو کروڑ جمہوری آئین پر یقین رکھنے والے ملک کے باشندوں کا مسئلہ ہے؛ اس لیے جن فسطائی عناصر نے بابری مسجد کو شہید کیا ہے انھیں بلا تاخیر قانونی سزا دی جائے۔ جو اسرائیلی ایجنٹ ملک میں مسلمانوں اور دلتوں اور عیسائیوں پر ناجائز حملے کر رہے ہیں وہ ملک کے عوام اور یہاں کی عدالت کو دھمکانے کی کوشش نہ کریں۔ عدالت کی توہین ہم کبھی برداشت نہیں کریں گے۔ انہدام کے مجرموں کو بچانے اور عدلیہ پر دباؤ بنانے کی دھمکی دینا بند کیا جائے۔ تمام ہندستانی باشندوں اور سارے باضمیر رہنماؤں کا ایک ہی فیصلہ ہے: ’’بابری مسجد دوبارہ اسی جگہ تعمیر کی جائے ۔ اس سلسلے میں کسی سے کوئی بھی سمجھوتہ نا ممکن ہے‘‘۔ ان باتوں کا اظہار آل انڈیاامامس کونسل کے قومی صدر مولانا عثمان بیگ رشادی نے آج ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوے کیا ۔
انھوں نے کہاکہ : ’’بابری مسجد کی جگہ زبردستی رام مندر بنانے کے لیے عدالت عظمیٰ کو 50 ہزار بلیدانیوں کی دھمکی دینے کی جرأت سنگھیوں میں کیسے پیدا ہوئی؟ یہ دھمکی سواسو کروڑ ہندستانیوں اور یہاں کی عدالت عظمیٰ کے لیے ایک چیلنج ہے، جو ہندستان اور اس کے جمہوری نظام کے لیے بہت ہی خطرناک ہے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ : ’’بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کسی بھی ہندستانی باشندہ کو ناقابل قبول ہے۔ عدالت پر ہمیں پورا بھروسہ ہے وہاں سے ہمیں ضرور انصاف ملے گا‘‘۔
آل انڈیا امامس کونسل کے قومی ناظم عمومی مفتی حنیف احرارؔ سوپولوی نے کہا کہ : ’’50 ہزار کی دھمکی دینے والوں کو یہاں کی سواسو کروڑ عوام ضرور صحیح جواب دیں گے ۔ جب معاملہ عدالت میں چل رہا تو اس پر بات کرنے، تعمیر کی تاریخ اور مہینہ مقرر کرنے، پھر فیصلہ اپنے حق میں دینے کے لیے عدالت پر بھی دباؤ بنانے اور دھمکیاں دینے والے لوگ ہندستانی کیسے ہو سکتے ہیں؟ یہ اسرائیلی ایجنٹ ہیں جو ملک کو پھر سے تاراج کرنا چاہتے ہیں ‘‘۔
کونسل کے نیشنل جنرل سکریٹری اور قومی ترجمان مفتی احرارؔ نے کہاکہ : ’’ آل انڈیا امامس کونسل مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ: ’’بابری مسجد‘‘سواسو کروڑ ہندستانیوں کا مسئلہ ہے۔اس کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لیے عدالت کے فیصلے سے پہلے فیصلہ سنانے والوں، ملک کے سواسو کروڑ عوام کو دھمکانے والوں، 50 ہزار دیش دشمن اور آئین مخالف بلیدانیوں کا خوف دلا کر ماحول کو خراب کرنے والوں کو فوراً سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے۔ انہدام کے مجرموں کو قانونی سزا دی جائے اور ملکی حالات کو سنگین بنائے جانے سے پہلے پہلے ان پر کنٹرول کیا جائے‘‘۔
ایم ، ایچ ، احرارؔ سوپولوی
قومی ترجمان : آل انڈیا امامس کونسل

 

Location


DELHI
F-20, III Floor, Shaheen Bagh, Jamia Nagar, Okhla, New Delhi 110025, India

 

Contact

Give us a call at

+91 98809 80310

+91 99607 19466

Email us at allindiaimamscouncil@gmail.com

 

Newsletters

Subscribe and get the latest updates, news, and more...