’’آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی زیر نگرانی آل انڈیا امامس کونسل کا ملک بھر میں ’’دارالقضاء ‘‘ چلانے کا عزم ‘‘ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی جانب سے منعقد سہ روزہ ’’تربیت قضاء کیمپ‘‘ بحسن و خوبی اختتام پذیر۔ کالی کٹ میں عظیم الشان کانفرنس

شاہین باغ، نئی دہلی،۲۸؍ فروری، ۲۰۱۸ء ؁، مطابق: ۱۰؍ جمادی الثانی، ۱۴۳۹ھ ؁۔
’’آل انڈیا امامس کونسل کے زیر انتظام آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے منعقد سہ روزہ ’’تربیت قضاء کیمپ‘‘ آج ۲۸؍ فروری کو بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا، جس میں کیرلا، تملناڈو، کرناٹک، آندھرا، گوا، اور مہارشٹر سے ۲۰۰؍ سے زائد علماء و مفتیان کرام نے شرکت کی۔ تربیت کے فرائض قاضی تبریز عالم قاسمی آرگنائزر آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ اور قاضی فیاض احمد قاسمی ممبئی قاضی شریعت نے انجام دیے۔
اختتام پر آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے دارالقضاء کوڈینٹر مفتی تبریز عالم قاسمی کی زیر صدارت عظیم الشان کانفرنس بعنوان ’’تحفظ شریعت کانفرنس‘‘ کالی کٹ کیشومینن ہال میں ہوا ۔ جس میں عوام کے ساتھ بڑی تعداد میں ہر مسلک کے علماء کرام نے شرکت کی۔
تحفظ شریعت کانفرنس مولانا طاہر نوری مہاراشٹر کی تلاوت سے شروع ہوئی۔ استقبالیہ آل انڈیا امامس کونسل کے قومی نائب صدر مولانا اشرف کرمنا پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ: ’’ دارالقضاء مسلم امت کی ایک اہم ضرورت ہے ۔ اس لیے تمام مسلم امت اپنے مسائل کو شرعی عدالت ’’دارالقضاء ‘‘ میں حل کرائیں‘‘۔ صدارتی خطاب کرتے ہوے قاضی تبریز عالم قاسمی نے کہا کہ: ’’مسلمان ہندستان ہی میں رہیں گے اور اسلامی تشخص کے ساتھ رہیں گے۔ وہ جان تو دے سکتے ہیں ؛ مگر شریعت میں مداخلت کو برداشت نہیں کر سکتے‘‘۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ : ’’آل انڈیا امامس کونسل، مسلم پرسنل لا بورڈ کی نگرانی میں جہاں بھی دارالقضاء چلانا چاہے گی ، بورڈ کی طرف سے ان کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا‘‘۔
قاضی شریعت ممبئی مفتی فیاض احمد قاسمی نے کہا کہ : ’’دارالقضاء کوئی متوازی عدالت نہیں ؛ بلکہ ایک معاون شعبہ ہے جس سے قوم ، ملک اور عوام کو مساوی طور پر فائدہ حاصل ہوگا‘‘۔ افتتاحیہ میں ایس ڈی پی آئی کے قومی صدر جناب اے سعید صاحب نے بتایا کہ : ’’شریعہ لا ہر مذہب کے ماننے والوں کو آئینی طور پر ملا ہے۔ اس میں مداخلت کرنے والا قانوناً مجرم ہے۔اس وقت اقلیتوں کی آواز دبانے کے لیے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں‘‘۔
پاپولر فرنٹ سابق این ای سی ممبر جناب کے ایم شریف صاحب نے کہا کہ : ’’اس وقت ملک میں دلتوں، اقلیتوں اور مسلمانوں کے خلاف منظم سازشیں کی جا رہی ہیں۔ بی جے پی حکومت عوام کو اہم ایجنڈے سے توجہ ہٹا کر مختلف اشوز میں الجھا دینا چاہتی ہے۔ اس لیے پوری طاقت کے ساتھ اپنے مذہبی ، ثقافتی اور قانونی آزادی کو استعمال کرنے اور اس کے خلاف کام کرنے والی طاقتوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔
آل انڈیا امامس کونسل کے قومی ٹریزرر حضرت مولانا عثمان بیگ رشادی نے کہا کہ : ’’حکومت ’’پرسنل لا‘‘ میں مداخلت کرنا بند کرے اور ملک کی تعمیر و ترقی میں دستوری اور جمہوری طریقہ کو بحال کرے؛ نیز انھوں نے سہ روزہ ’’تربیت قضاء کیمپ‘‘ پر آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کا شکریہ ادا کیا۔
ان کے علاوہ کانفرنس دیگر علماء اور مفتیان کرام اور ملک کے دانشوران نے خطاب کیا ۔نصیر الدین صاحب، مفتی حنیف احرار قاسمی قومی ناظم عمومی آل انڈیا امامس کونسل ، مولانا عیسی فاضل منبعی کیرلا اسٹیٹ امامس کونسل صدر اور مولانا عبدالرحمن باقوی قابل ذکر ہیں۔ اس موقع پر مولانا عبدالغفور منبعی نیشنل سکریٹری امامس کونسل ، مولانا شاہ الحمید باقوی، مولانا عابر الدین منبعی وغیرہ اسٹیج پر موجود تھے ۔کانفرنس کی نظامت مولانا فیصل اشرفی نے کی اور انھیں کے تشکرانہ کلمات پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی ۔‘‘
ایم، ایچ، احرار سوپولوی
قومی ترجمان: آل انڈیا امامس کونسل

 

Location


DELHI
F-20, III Floor, Shaheen Bagh, Jamia Nagar, Okhla, New Delhi 110025, India

 

Contact

Give us a call at

+91 98809 80310

+91 99607 19466

Email us at allindiaimamscouncil@gmail.com

 

Newsletters

Subscribe and get the latest updates, news, and more...