ہندستان میں ’’رام راج‘‘ کی بات کرنے والوں کے خلاف غدارِ وطن کا مقدمہ چلایا جائے۔ حکومت فوری اقدامات کرے

۳۱؍ اگست ، ۲۰۱۶ء ؁، مطابق:۲۸؍ ذوالقعدہ۱۴۳۷ھ ؁، شاہین باغ ، نئی دہلی۔
ہندستان میں ’’رام راج‘‘ کی بات کرنے والوں کے خلاف غدارِ وطن کا مقدمہ چلایا جائے۔ حکومت فوری اقدامات کرے
’’جمہوریت‘‘ کو ختم کر کے ’’مذہبیت‘‘ لاگو کرنے کی بات کرنا ملک کے ساتھ سب سے بڑی غداری ہے ۔ آل انڈیا امامس کونسل

’’ہندستان ایک اٹوٹ جمہوری ملک ہے۔ اس کا نظام اٹل ہے۔ اس سمیدھان کو یہاں کی عوام نے اپنی رضامندی سے قبول کیا ہے اور آ ج بھی ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، دلت اور آدی واسی اور تمام سواسو کروڑ ہندستانی اسی کو اپنے ملک کا آئین تسلیم کرتے ہیں۔ اسی آئین کے تحفظ میں ملک کی سلامتی ، بین المذاہب روا داری اور گنگاجمنی تہذیب کا تحفظ مضمر ہے‘‘۔ آل انڈیا امامس کونسل کے قومی صدر مولانا عثمان بیگ رشادی نے میڈیا سے ان خیالات کا اظہار کیا۔
انھوں نے کہا کہ: ’’ جس ملک کو ہزاروں اور لاکھوں ہندستانیوں نے اپنی زندگی کا بلیدان دے کر آزادی دلائی۔ اس کو چلانے کے لیے دنیا کا سب سے اچھا سمیدھان اور دستور دیا۔ آزادی، تحفظ، انصاف، برابری اور باہمی رَوَاداری عطا کرنے والے ملک کے اسی نظام کو ختم کرنے اور وہاں پر ’’رام راج‘‘ کی بات کرنا کتنا بڑا جرم ہے، یہ صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنھیں کسی بھی درجے میں اس ملک سے محبت ہے ‘‘۔
مولانا رشادی نے مزید کہا کہ : ’’ملک اور ملکی آئین کی حفاظت کرنا ہر ہندستانی کا فرض ہے۔ ہندستان کے نظام ، آئین اور تہذیب کو بدلنے کی کوشش کرنا تو درکنار ، اس کی بات کرنے والا بھی ملک کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا ہے‘‘۔
آل انڈیا امامس کونسل کے ناظم عمومی مولانا شاہ الحمید باقوی نے کہا کہ : ’’ملک بڑی تیز رفتاری کے ساتھ سامراجیت اور سنگھیت کی طرف گامزن ہے اور ایک خاص طبقے کو اس کا ہم نوا بنانے کی سازش جاری ہے۔ جب کہ اس طرح کی کوئی بھی سرگرمی ملک سے غداری کے مترادف ہے‘ ‘۔ انھوں نے کہا کہ : ’’ملک میں ملک مخالف سرگرمیاں ملک کے ساتھ سب سے بڑی غداری ہے‘‘۔
کونسل کے نیشنل جنرل سکریٹری اور قومی ترجمان مفتی حنیف احرارؔ سوپولوی نے کہا کہ :’’جس ملک میں ’’گوشت کھانا غداری، مدارس چلانا غداری، اتحاد کی بات کرنا غداری، سیاسی آواز اُٹھانا غداری، ظلم اور ظالم کی مخالفت کرنا غداری، بیف کا کاروبار کرنا غداری اور مذہبی اصولوں پر زندگی گزارنے کی دعوت دینا ملک کے ساتھ غداری شمار کی جاتی ہو، اسی ملک میں ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بات کرنا، مذہب کے نام پر نفرت پھیلاکر فسادات کرنا اور ملکی دستور اور تہذیب کو بدل کر ’’رام راج‘‘ لانے کرنے بات کرنا ’’غداری‘‘ نہیں سمجھا جاتا ہے۔ اس ملک کے سواسو کروڑ عوام ہوا کے رُخ کو اچھی طرح سمجھ رہے ہیں؛ اس لیے آل انڈیا امامس کونسل مطالبہ کرتی ہے کہ ریاستی اور مرکزی حکومتیں ملک میں آئین کے تحفظ، ملک کی سلامتی اور شہداء ہندستانی کی قربانیوں کی آبرو رکھنے کے لیے فوری طور پر ’’ملک میں سنگھیت، سامراجیت اور مذہبیت (رام راج) کی بات کرنے والوں کے خلاف کڑی سے کڑی قانونی اقدامات کریں‘‘۔
ایم ، ایچ، احرارؔ سوپولوی
قومی ترجمان : آل انڈیا امامس کونسل

 

Location


DELHI
F-20, III Floor, Shaheen Bagh, Jamia Nagar, Okhla, New Delhi 110025, India

 

Contact

Give us a call at

+91 98809 80310

+91 99607 19466

Email us at allindiaimamscouncil@gmail.com

 

Newsletters

Subscribe and get the latest updates, news, and more...