نجیب کی گمشدگی اور مرکزی حکومت کی خاموشی ملی بھگت سازش کا نتیجہ ۔ اے بی وی پی پر فوری پابندی عائد کی جائے ۔امامس کونسل

۸؍ نومبر، ۲۰۱۶ء ؁، مطابق:۷؍ صفر المظفر ۱۴۳۸ھ ؁، شاہین باغ ، نئی دہلی۔
نجیب کی گمشدگی اور مرکزی حکومت کی خاموشی ملی بھگت سازش کا نتیجہ ۔ اے بی وی پی پر فوری پابندی عائد کی جائے ۔امامس کونسل
اپنے نوجوان گم شدہ بیٹے نجیب کے لیے ماں کی فریاد پر پولیس کی زیادتی ناقابل برداشت۔ ملک میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے متحدہ کوشش کی ضرورت

’’جے این یو میں تعلیم حاصل کر رہے طالب علم نجیب کی گمشدگی ایک بڑی سازش کا نتیجہ ہے۔ اکھیل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے دہشت گردوں کے ہاتھیوں پٹائی اور پھر اسپتال سے یکایک اس کی گم شدگی ملک میں دلتوں اور اقلیتوں کو عدم تحفظ کا احساس دلاتی ہے۔ ملک کو اگر بچانا ہے اور یہاں کی قدیم ہندو ، مسلم، سکھ، عیسائی، دلت اور آدی واسی سب کے ساتھ قومی یکجہتی کو باقی رکھنا چاہتے ہیں تو ملک میں من مانی کرنے والی، آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، اے بی وی پی، یووا واہنی اور درگاواہنی جیسی دہشت پسند اور نفرت پھیلانے والی تنظیموں کے خلاف سب کو ایک ساتھ آواز اُٹھانی ہوگی‘‘۔ ان باتوں کا اظہار آل انڈیا امامس کونسل کے قومی صدر مولانا عثمان بیگ رشادی نے کیا۔
کونسل کے قومی صدر نے کہا کہ : ’’یہ صرف ایک نجیب کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ہزاروں بچوں، نابالغ بچیوں، جوانوں لڑکیوں ، عورتوں اور نوجوانوں کا مسئلہ ہے۔ جن کا آج تک کوئی پتہ نہیں چلا۔ ان سب کے پیچھے اس ملک کے ان فسطائی طاقتوں کی کارستانی ہے جو ملک میں اسرائیل کی رہنمائی ملک کو توڑنے اور یہاں کی ہندو ، مسلم، سکھ، عیسائی، دلت اور آدی واسیوں کی آپسی محبت کو ختم کرکے حکومت میں بنے رہنا چاہتے ہیں ‘‘۔
آل انڈیا امامس کونسل کے قومی صدر مولانا رشادی نے کہا کہ : ’’نجیب کی ماں کے ساتھ پولیس کی زبردستی انتہائی افسوسناک ہے۔ اس سے پولیس انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہی نہیں اُٹھتا ہے ؛ بلکہ اس سے تمام ہندستانیوں کا پولیس انتظامیہ پر سے اعتماد ختم ہو تا نظر آرہا ہے‘‘۔
آل انڈیا امامس کونسل کے قومی ناظم عمومی مولانا شاہ الحمید باقوی نے کہا کہ : ’’دہلی حکومت اور مرکزی حکومت فوری طور پر ’’نجیب ‘‘ کو برآمد کرے ۔ اور اس کے پیچھے خفیہ ایجنسیوں اور ملک کی دہشت گرد اور مجرم تنظیموں کو عوام کے سامنے پیش کرے کہ حقائق کیا ہیں؟‘‘۔
کونسل کے قومی ترجمان حنیف احرارؔ سوپولوی نے بتایا کہ : ’’نجیب کی گمشدگی سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے، جس کے ذمہ دار ملک کی دہشت گرد اسٹوڈنس تنظیم ’’اکھیل بھارتیہ ودیارتھی پریشد‘‘ کے غنڈے ہیں؛ اس لیے آل انڈیا امامس کونسل پر زور مطالبہ کرتی ہے کہ : ’’مرکزی اور دہلی حکومتیں فوری طور پر ’’نجیب‘‘ کو انصاف دلانے کے لیے آگے آئیں اورکورٹ کے ذریعے اس کی انکوائری کرائیں اور ملک کے ۲۵ ؍ کروڑ عوام کے سوالوں کا جواب دیں‘‘۔
ایم، ایچ، احرارؔ سوپولوی
قومی ترجمان: آل انڈیا امامس کونسل

 

Location


DELHI
F-20, III Floor, Shaheen Bagh, Jamia Nagar, Okhla, New Delhi 110025, India

 

Contact

Give us a call at

+91 98809 80310

+91 99607 19466

Email us at allindiaimamscouncil@gmail.com

 

Newsletters

Subscribe and get the latest updates, news, and more...