ملک میں بڑھتے فسطائی مظالم کو بند کیا جائے۔ مسلمانانِ ہند قرآن اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں آل انڈیا امامس کونسل کی جانب سے منعقد ’’مقاصد شریعہ نیشنل کانفرنس‘‘ سے اہم شخصیات کا خطاب۔ آل انڈیا امامس کونسل

ملک میں بڑھتے فسطائی مظالم کو بند کیا جائے۔ مسلمانانِ ہند قرآن اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں
آل انڈیا امامس کونسل کی جانب سے منعقد ’’مقاصد شریعہ نیشنل کانفرنس‘‘ سے اہم شخصیات کا خطاب۔ آل انڈیا امامس کونسل
۸؍ اگست ، شاہین باغ نئی دہلی
آل انڈیا امامس کونسل کی جانب سے دو روزہ ’’مقاصد شریعہ نیشنل کانفرنس‘‘ منعقد کی گئی جس پہلے دن مخصوص علماء کرام سے ملک کے موجودہ مسائل پر بحث و مباحثہ اور گفت و شنید ہوئی۔ دوسرے دن غالب انسٹی ٹیوٹ ، ماتا سندری روڈ، نئی دہلی میں علماء و مفتیان کرام کے لیے عمومی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں پورے ہندستان کے دو سو سے زائد علماء اور مفتیان کرام نے حصہ لیا۔ کانفرنس میں نکاح، طلاق، خلع، وراثت وغیرہ مسائل پر شریعت کی تفصیلی رہنمائی پیش کی گئی۔ پروگرام سے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی (حیدر آباد)، مولانا عتیق احمد بستوی (لکھنوء)، مفتی مکرم (دہلی)، مولانا اصغر علی امام مہدی (دہلی) ، مولانا عثمان بیگ رشادی (بنگلور)، مولانا عبد الرحمن باقوی (کیرلا) اور ڈاکٹر ظفر الاسلام خان صاحب نے خطاب کیا۔
دو روزہ مقاصد شریعہ نیشنل کانفرنس میں شریک تمام علماء و مفتیانِ کرام کی اتفاقِ رائے درج ذیل ’’قرار دادیں‘‘ پاس کیں۔
(۱) مسلمان اپنے پرسنل لا کی روشنی میں اپنے عائلی مسائل حل کریں۔ اس کے لیے دارالقضاء اور دارالاصلاح کو بااثر بنائیں۔ علماء و مفتیانِ کرام سے مسائل پوچھ کر عمل کریں اور علماء کرام ملت اسلامیہ کی صحیح رہنمائی کریں۔
(۲) ملک بھر میں دلتوں، آدی واسیوں اور مسلمانوں کے اوپر ہو رہے مظالم کو ’’یہ کانفرنس‘‘ منظم حملہ قرار دیتی ہے اور اس کی مذمت کرتی ہے، جانور کے تاجروں کو گوبر کھلانے، چمڑا نکالنے والے دلتوں کی پٹائی کرنے اور مسلم خواتین پر ’’گؤ ماس‘‘ کے بہانے ظلم ڈھانے والوں کے خلاف حکومت سے سخت کاروائی کا مطالبہ کرتی ہے۔
(۳) ’’بابری مسجد‘‘ اپنی شہادت پر ۲۴؍ سال گزرنے کے بعد بھی انصاف کی منتظر ہے ۔ اس کے ساتھ انصاف یہی ہے کہ اسے دوبارہ اُسی جگہ تعمیر کر دی جائے۔ بابری مسجد کی باز آباد کاری ملک میں سیکولرزم کی بحالی کی پہچان ہوگی۔ وشو ہندو پریشد اور آر ایس ایس کے غیر قانونی دست درازیوں کو روکا جائے۔ اور ان کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تمام عناصر کو قرارِ واقعی سزا دی جائے‘‘۔
(۴) آل انڈیا امامس کونسل کی نیشنل کانفرنس بڑی شدت کے ساتھ یہ محسوس کر رہی ہے کہ ملک میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد سے مسلسل مسلمانوں میں رنگ ، نسل، خاندان ، علاقہ ، زبان اور مسلک کے نام پر تفریق پیدا کرنے کی منظم سازش کی جا رہی ہے۔ اس کو بند کیا جائے ، اتحادِ بین المسلمین ہمارا مذہبی فریضہ ہے ، جس میں دخل اندازی ہمیں برداشت نہیں۔
(۵) کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے ’’ریزرویشن‘‘ ناگزیر ضرورت ہے ، جس قوم کو ریزرویشن ملا وہ آج ترقی کی اونچی منزل پر کھڑی ہے۔اس لیے یہ کانفرنس مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ مسلمانوں کو پسماندگی کی بنیاد پر آبادی کے تناسب سے ریزرویشن مہیا کرے۔
(۶) آئین ہند کی روشنی میں ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہبی’’ پرسنل لا‘‘ پر عمل کرنے کی پوری آزادی حاصل ہے ؛ مگر فسطائی عناصر بڑی چابک دستی کے ساتھ مسلمانوں اور دلتوں سے یہ حق چھین لینا چاہتے ہیں ۔ملک میں ’’ہندو کوڈ‘‘ کے نفاذ کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم سواسو کروڑ ہندستانی اس خواب کو کبھی بھی پورا نہیں ہونے دیں گے۔ کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کے پرسنل لا میں مداخلت غیر آئینی اور قانونی جرم ہے۔ اس لیے آل انڈیا امامس کونسل کی دو روزہ مقاصد شریعہ کانفرنس یہ مطالبہ کرتی ہے کہ : کسی بھی طبقہ کے مذہبی امور میں مداخلت بند کیا جائے اور پرسنل لا میں دخل اندازی کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کی جائے ؛ تاکہ قوم کے اندر اطمینان و اعتماد بحال ہو سکے۔
ایم ایچ احرار سوپولوی
قومی ترجمان: آل انڈیا امامس کونسل

 

Location


DELHI
F-20, III Floor, Shaheen Bagh, Jamia Nagar, Okhla, New Delhi 110025, India

 

Contact

Give us a call at

+91 98809 80310

+91 99607 19466

Email us at allindiaimamscouncil@gmail.com

 

Newsletters

Subscribe and get the latest updates, news, and more...