مرکزی حکومت یا سپریم کورٹ کی پرسنل لا میں مداخلت، ملکی آئین کو بالائے طاق رکھنے کی ناپاک سازش ۔آل انڈیا امامس کونسل

۱۱؍ اکتوبر، ۲۰۱۶ء ؁، مطابق:۹؍ محرام الحرام ۱۴۳۸ھ ؁، شاہین باغ ، نئی دہلی۔
مرکزی حکومت یا سپریم کورٹ کی پرسنل لا میں مداخلت، ملکی آئین کو بالائے طاق رکھنے کی ناپاک سازش ۔آل انڈیا امامس کونسل
’’جو حکومت اور کورٹ ملکی آئین کا لحاظ نہیں کرتے وہ ملک کے غدارہیں، پرسنل لا میں کسی بھی طرح کی ادنا سی مداخلت بھی ناقابل قبول‘‘

’’آج آل انڈیا امامس کونسل کے صدر دفتر شاہین باغ نئی دہلی میں ہنگامی میٹنگ بلائی گئی جس میں کونسل کے اہم اراکین نے شرکت کی۔ میٹنگ میں تین طلاق سے متعلق حکومت کے حلف نامہ اور سپریم کورٹ کے مطالبہ کو غیر آئینی مداخلت قرار دیا گیا۔ کونسل کے قومی صدر مولانا عثمان بیگ رشادی نے کہا کہ : ’’کوئی انسان یا کورٹ ملکی آئین سے بالاتر نہیں۔ جو عناصر ملکی آئین کا احترام نہیں کرتے انھیں ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ مودی حکومت جان بوجھ کر پرسنل لا کو اشو بنا کر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور یوپی الیکشن میں ووٹ بینک بنانے کی سازش رچ رہی ہے‘‘۔
قومی صدر نے کہا کہ : ’’مسلم پرسنل لا کی بنیاد قرآن اور حدیث پر ہے۔ اس میں کسی بھی انسان کو مداخلت کرنے کا حق نہیں۔ جن کو اسلامی قانون پسند نہیں ان کے لیے دوسرے دروازے کھلے ہیں۔ جب تک ایک بھی سچا مسلمان زندہ ہے وہ ’’پرسنل لا‘‘ میں کسی بھی طرح کے رد و بدل اور کمی بیشی کو قبول نہیں کرے گا۔ یہی ہمارے ملک کا آئین بھی کہتا ہے‘‘۔
آل انڈیا امامس کونسل کے قومی ناظم عمومی مولانا شاہ الحمید باقوی نے کہا کہ : ’’ دنیا کے تمام ادیان سے بڑھ کر اسلام نے عورتوں کو حقوق دیے ہیں۔ پرسنل لا میں مداخلت ایک بہت بڑی سازش کا نتیجہ ہے۔ مسلم پرسنل لا ،پر واویلا مچانے والا کوئی مسلمان نہیں؛ بلکہ آرایس ایس کی بنائی ہوئی تنظیم مسلم راشٹریہ مہیلا منچ کی دوغلی ذہنیت کا اثر ہے۔ اگر حکومت کو خواتین سے اتنی ہی ہمدردی ہے تو اسے چاہیے کہ پورے ملک میں دلت عورتوں پر جو مظالم بھگوا دہشت گرد ڈھا رہے ہیں اس پر روک لگائے ، ان کی اچھی زندگی کے لیے یوجنا بنائے ۔ مسلم خواتین کو مودی حکومت کی ہمدردی کی ضرورت نہیں۔ حکومت بناؤٹی ہمدردی کے نام پر، پرسنل لا میں مداخلت کرنا فوراً بند کرے‘‘۔
کونسل کے نیشنل جنرل سکریٹری اور قومی ترجمان مفتی حنیف احرارؔ سوپولوی نے کہا کہ : ’’افواہیں اور خوف پھیلا کر مودی حکومت اصل ایجنڈے سے عوام کے ذہن کو پھیرنا چاہتی ہے۔ ڈھائی سالہ ناکامی پر کالا پردہ ڈالنے کے لیے ’’پرسنل لا‘‘ کو نشانہ بنا یا جا رہا ہے‘‘۔
قومی جنرل سکریٹری نے مزید کہا کہ : ’’خواہ کوئی دستخط کرے یا نہ کرے،خواہ کوئی تائید کرے یا تنقید، پرسنل لا کو کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ پرسنل لا میں تبدیلی غیر قانونی اور غیر انسانی فعل ہے۔ اگر مودی حکومت میں (ووٹ لینے کے لیے) مسلم خواتین سے اتنی ہی ہمدردی جاگ رہی ہے کہ تو وہ ان کو پندرہ پندہ لاکھ روپے دے ؛ تاکہ ان کی زندگی خوشحال اور فارغ البال گزر سکے؛ لیکن پرسنل لا میں تبدیلی یا ردو بدل کا گمان بھی ذہن و دماغ سے نکال دے؛ کیوں کہ مسلمان جان دے سکتا ہے ؛مگر اسلامی قانون میں تبدیلی کو برداشت نہیں کرسکتا ہے‘‘۔
کونسل کے قومی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ :’’اگر مودی حکومت اور کورٹ انسانی ہمدردی کو بہانہ بنا کر ملکی آئین کے خلاف ’’پرسنل لا ‘‘ میں دست درازی کی کوشش کرتی ہے توآل انڈیا امامس کونسل پورے ملک میں اس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک چلائے گی‘‘۔
ایم، ایچ، احرارؔ سوپولوی
قومی ترجمان: آل انڈیا امامس کونسل

 

Location


DELHI
F-20, III Floor, Shaheen Bagh, Jamia Nagar, Okhla, New Delhi 110025, India

 

Contact

Give us a call at

+91 98809 80310

+91 99607 19466

Email us at allindiaimamscouncil@gmail.com

 

Newsletters

Subscribe and get the latest updates, news, and more...