بی جے پی حکومت مجرم سازی کی فیکٹریاں بند کرے۔ ذاکر نائک اور اویسی کے خلاف آواز اُٹھانے والوں پر قانونی کاروائی کرے مولانا انظر شاہ اور مفتی عبد السمیع کو اور مسلم نوجوانوں کی طرح زبردستی مجرم بنایا گیا ہے، انھیں فوراً رہا کیا جائے ۔ آل انڈیا امامس کونسل

۱۴؍ جولائی ، ۲۰۱۶ء ؁، مطابق:۸؍ شوال۱۴۳۷ھ ؁، شاہین باغ ، نئی دہلی۔
بی جے پی حکومت مجرم سازی کی فیکٹریاں بند کرے۔ ذاکر نائک اور اویسی کے خلاف آواز اُٹھانے والوں پر قانونی کاروائی کرے
مولانا انظر شاہ اور مفتی عبد السمیع کو اور مسلم نوجوانوں کی طرح زبردستی مجرم بنایا گیا ہے، انھیں فوراً رہا کیا جائے ۔ آل انڈیا امامس کونسل

’’ لگتا ہے ہمارے ملک کو کسی کی نظر لگ لگی ہے۔ جب سے بی جے پی حکومت بنی ہے ملک میں مجرم سازی کی فیکٹریاں کھل گئی ہیں۔ ہر جگہ عام ، خاص، عالم ، جاہل، تعلیم یافتہ اور غیر پڑھا لکھا، سیاسی اور غیر سیاسی ہر طرح کے لوگوں کو جرم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے لیے الگ الگ خفیہ افراد اور تنظیموں اور سوشل میڈیا کو بھر پور استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکومت اور سکوریٹی کا کام ہے مجرم کو پکڑنا ، نہ کر مجرم بنانا۔ اس سے پہلے بھی مولانا انظر شاہ قاسمی اور مفتی عبد السمیع صاحب کو صرف شبہ کی بنیاد پر پکڑا گیا اور چھ ماہ بعد الزامات گھڑ پر ان پر تھوپا گیا ہے۔ آج وہی رویہ ڈاکٹر ذاکر نائک اور اسد الدین اویسی کے خلاف رچا جارہا ہے ‘‘۔ ان باتوں کا اظہار ڈاکٹر ذاکر نائک اور اسد الدین اویسی کی حمایت میں جنتر منتر پر کیے گئے اجتماعی احتجاج کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوے آل انڈیا امامس کونسل کے قومی صدر مولانا عثمان بیگ رشادی نے کیا۔
قومی صدر مولانا رشادی نے کہا کہ: ’’ آئین مخالف بیان بازی کرنے والوں اور قانون کے خلاف کھلے عام ہتھیاروں کی ٹریننگ دینے والوں اور جگہ جگہ فسادات کی آگ لگانے والوں کے خلاف حکومت قدام اُٹھانے میں جرأت دکھائے‘‘۔
آل انڈیا امامس کونسل کے قومی ناظم عمومی مولانا شاہ الحمید باقوی نے کہا کہ:’’اسد الدین اویسی اور ڈاکٹر ذاکر نائک کی حق گوئی کے خلاف آواز اُٹھاناایک منظم سازش کا نتیجہ ہے۔ اس کے پیچھے جتنے لوگ ہیں ان کی تحقیق کی جائے اور قانونی طور پر ان پر مقدمہ چلایا جائے ‘‘۔
انھوں نے کہا کہ : ’’ آئینی حقوق ،اور دستوری آزادی چھیننے کی سازش برداشت نہیں کی جائے گی‘‘۔
آل انڈیا امامس کونسل کے نیشنل جنرل سکریٹری اور قومی ترجمان مفتی حنیف احرارؔ سوپولوی نے کہا کہ : ’’مودی حکومت آر ایس ایس کے اشارے پر کام کر رہی ہے۔ مسلمانوں کو فروعی اور غیر آئینی مسائل میں الجھا کر انھیں منتشر کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کی گرفتاری کے ذریعے خوف و ہراس پیدا کرکے حق کی آواز کو بند کرنا مقصود ہے۔ مسلم رہنماء اور غیر مسلم سکولر لیڈرس ملکی مسائل کو آئین کی روشنی میں حل کریں۔ مجرمین کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ ہم کسی بھی قیمت پر فاششٹ طاقت سے ڈرنے اور سمجھوتہ کرنے والے نہیں ہیں۔ ڈاکٹر ذاکر نائک اور اسد الدین اویسی کو نشانہ بنانا اتنی بیہودہ حرکت ہے کہ خود ان کی عقل اس پر انھیں ملامت کرتی ہوں گی ‘ ‘۔
کونسل کے قومی ترجمان نے زور دیتے ہوے کہا کہ : ’’آل انڈیا امامس کونسل مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ : ’’ملکی آئین کی روشنی میں مذہبی آزادی اور اظہارِ رائے کے اختیارات کو سامنے رکھتے ہوے ڈاکٹر ذاکر نائک اور اسد الدین اویسی کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے افراد اور میڈیا کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کریں‘‘۔
ایم ، ایچ، احرارؔ سوپولوی
قومی ترجمان : آل انڈیا امامس کونسل

 

Location


DELHI
F-20, III Floor, Shaheen Bagh, Jamia Nagar, Okhla, New Delhi 110025, India

 

Contact

Give us a call at

+91 98809 80310

+91 99607 19466

Email us at allindiaimamscouncil@gmail.com

 

Newsletters

Subscribe and get the latest updates, news, and more...