Error message

Deprecated function: The each() function is deprecated. This message will be suppressed on further calls in menu_set_active_trail() (line 2405 of /home/aus661lbl031/public_html/imamscouncil.org/includes/menu.inc).

’’نوٹ منسوخی ‘‘ سے ملک پچاس سال پیچھے چلا گیا۔ اس سے صرف فسطائی قوتیں مستحکم ہوئیں۔ قومی مجلس عاملہ

۱۶؍ جنوری۲۰۱۷ء ؁، مطابق:۱۷؍ ربیع الثانی ۱۴۳۸ھ ؁، شاہین باغ ، نئی دہلی۔
’’نوٹ منسوخی ‘‘ سے ملک پچاس سال پیچھے چلا گیا۔ اس سے صرف فسطائی قوتیں مستحکم ہوئیں۔ قومی مجلس عاملہ
آر ایس ایس کی شاخ مسلم راشٹریہ منچ اور دیگر فسطائی تنظیموں سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ قومی صدر: مولانا عثمان بیگ رشادی
’’16 جنوری 2017، آج تملناڈو کی راجدھانی مدراس (چنئی) میں آل انڈیا امامس کونسل کی چھٹی نیشنل کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ جس میں پورے ہندستان سے ہر ریاست کے ذمہ داران نے شرکت کی ۔ میٹنگ میں ملکی حالات اور مسلمانوں کے مستقبل سے متعلق بہت سے عنوانات پر تفصیلاً گفتگو ہوئی۔ افتتاحی خطاب کونسل کے قومی صدر مولانا عثمان بیگ رشادی کیا۔ جس میں انھوں نے کہا کہ : ’’آج جس طرح مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی، سماجی اور سیاسی امپاور منٹ کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ مسلمانوں بالعموم تمام ہندستانیوں کو یہ بتائی جائے کہ اس ملک کے لیے حقیقتاً خطرہ کون ہیں؟ اور کون مسلمانوں کو حاشیہ پر لاکر انھیں ختم کرنے کی سازش کر ر ہے ہیں؟‘‘ ۔ انھوں نے کہا کہ :’’MRM پھر سے مسلمانوں میں اختلاف کی بیج بونے کے لیے پر پنکھ سنبھال رہی ہے۔ اس کے پر کاٹنے کی ضرورت ہے اور اس کی حقیقت اور ملک اور مسلم امت کے تئیں اس کے غلط تحریکات سے امت کو آگاہ کرنے کی سخت ضرورت ہے‘‘۔
انھوں نے کہا کہ : ’’اس جمہوری ملک میں یکساں سول کوڈ ‘‘ کی بات کرنے والا فرد یا تنظیم کبھی بھی ہندستان کے حق میں نہیں ہو سکتی ہے۔ یہ تمام ہندستانیوں کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا ملک ایک دستوری اور جمہوری ملک ہے ۔ اس پر فسطائی راج کا نفاذ کبھی نہیں ہونے دیں گے‘‘۔
کونسل کی سہ ماہی رپورٹس مولانا شاہ الحمید باقوی قومی ناظم عمومی (چنئی )نے پیش کی ۔ جب کہ تمام رپورٹوں پر بالتفصیل مناقشہ کونسل کے نائب قومی صدر مولانا اشرف کرمنا باقوی (کیرلا) نے کیا۔
میٹنگ کے اختتام پر کونسل کے نیشنل جنرل سکریٹری مفتی حنیف احرارؔ سوپولوی نے تین ریزولیشن (تجاویز)پیش کیے، جن کو تمام صدور و نظما نے سراہا اور ہاتھ اُٹھا کر تمام شرکاء نے مکمل تائید پیش کی:
(۱) ’’نوٹ منسوخی‘‘ سراسر ملک کے مفاد کے خلاف تھا، جس مقصد کے لیے نوٹ منسوخ کیا گیا اس میں ایک فیصد بھی کامیابی نہیں ملی؛ اس لیے آل انڈیا امامس کونسل اس فیصلے کو عوام مخالف قرار دیتی ہے ۔ اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ کوئی بھی فیصلہ ملک و عوام کے خلاف ہرگز نہ لے۔
(۲) ’’مسلم راشٹریہ منچ‘‘ مسلمانوں کی نہیں؛ بلکہ آر ایس ایس کی مسلم مخالف تنظیم ہے ، اس طرح کی تنظیم آر ایس ایس نے مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لیے بنائی ہے۔ اس سے عوام بالخصوص مسلمانوں کو آگاہ کیا جائے؛ تاکہ عوام ان کو منھ توڑ جواب دیں۔ اور یہ واضح کیا جائے کہ ہندستانی عوام صدا سے ایک تھے اور ایک ہی رہیں گے۔ اور ہمارے درمیان میں تفریق پیدا کرنے کی ہر کوشش کو ہم ناکام بنا دیں گے۔
(۳) ایم آر ایم کے ذریعہ ’’یکساں سول کوڈ‘‘ کی بات کرنے والی تنظیمیں اور عناصر ملک کے دستور کے خلاف ہیں ۔ ایسے لوگ ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کا نظریہ پھیلانا چاہتے ہیں۔ مذہبی حقوق کی دستوری آزادی کے خلاف اس گندی سازش کو روکنے کے لیے عوام کو متحد ہو کر آگے آنے کی ضرورت ہے۔
(۴) ملک کی پانچ ریاستوں (یوپی، اتراکھنڈ، پنجاب، منی پور اور گوا) میں ہونے والے الیکشن میں ہر مسلمان اپنے ووٹ کو استعمال کریں۔ علماء و ائمہ اس طرف عوام کی توجہ مبذول کرائیں اور ہر ممکن تعاون فراہم کریں؛ تاکہ فسطائیت کو شکست دے ملک کی باگ ڈور صحیح ہاتھوں کو سونپا جا سکے۔
آل انڈیا امامس کونسل کے قومی ترجمان ایم ، ایچ، احرار سوپولوی نے کہا کہ :’’ ملک میں امن، ہر مذہب اور مسلک کے ساتھ رواداری اور ہم دردی ، یہاں کی گنگاجمنی تہذیب کا تحفظ ہر ہندستانی کا فرض ہے۔ ان سب کے لیے ہمارے پاس ملک کے دستوری اختیارات موجود ہیں؛اس لیے آل انڈیا امامس کونسل تمام باشندگانِ ملک سے اپیل کر تی ہے کہ جو لوگ ملک کو غیر دستوری دھارے میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کے خلاف متحدہ آواز اُٹھائیں ‘‘۔
ایم ، ایچ ، احرارؔ سوپولوی
قومی ترجمان: آل انڈیا امامس کونسل

 

Location


DELHI
F-20, III Floor, Shaheen Bagh, Jamia Nagar, Okhla, New Delhi 110025, India

 

Contact

Give us a call at

+91 98809 80310

+91 99607 19466

Email us at allindiaimamscouncil@gmail.com

 

Newsletters

Subscribe and get the latest updates, news, and more...