Error message

Deprecated function: The each() function is deprecated. This message will be suppressed on further calls in menu_set_active_trail() (line 2405 of /home/aus661lbl031/public_html/imamscouncil.org/includes/menu.inc).

بابری مسجد دوبارہ اسی جگہ تعمیر کی جائے اور لبراہن کمیشن نے جن مجرمین کی لسٹ دی ہے ان کو سزا دی جائے۔ آل انڈیا امامس کونسل

شاہین باغ، نئی دہلی،۵؍ دسمبر ۲۰۱۸ء، مطابق: ۲۷؍ربیع الاول، ۱۴۴۰ھ۔
بابری مسجد دوبارہ اسی جگہ تعمیر کی جائے اور لبراہن کمیشن نے جن مجرمین کی لسٹ دی ہے ان کو سزا دی جائے۔ آل انڈیا امامس کونسل
۲۶؍ سال قبل سپریم کورٹ کے حکم کو توڑ کر آر ایس ایس کی نگرانی میں فسطائی جماعتوں نے بابری مسجد کو شہید کردیا۔ ہوم منسٹر اور راشٹرپتی کو سونپا میمورنڈم
آل انڈیا امامس کونسل کے قومی صدر مولانا محمد احمد بیگ ندوی نے کہا کہ : ’’بابری مسجد ، صرف مسلمانوں کی ایک عبادت گاہ نہیں؛ بلکہ وہ ملک کا سرمایہ، جمہوریت کی نشانی اور یہاں کی گنگاجمنی تہذیب کی بقا کی ضامن ہے۔ بابری پر حملہ ملک کے جمہوری ڈھانچے پر حملہ ہے۔ اس لیے بابری کی دوبارہ اُسی جگہ تعمیر دستور ، قانون اور تمام ہندستانیوں کے اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے‘‘۔
’’شہادت کے ۱۸؍ سال بعد۳۱؍ ستمبر۲۰۱۰ء ،کو الہ آباد ہائی کورٹ نے جب ثبوت سے قطع نظر تقسیم کا غیر دستوری فیصلہ دیا تو سپریم کورٹ نے اس فیصلہ کو موقوف کرتے ہوے۹؍ مئی ۲۰۱۱ء کو ایک تبصرہ کیا جس میں جسٹس لودھا نے کہا کہ : ’’ متنازعہ جگہ کو تین حصوں میں تقسیم کر کے، اس کو اسی طرح برقرار رکھنے اور کسی کو اس جگہ پر عبادت کی اجازت نہیں دینے والا الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ بہت ہی تعجب خیز ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس لودھا کا کہنا ہے کہ جو لوگ پہلے سے وہاں عبادت ہی نہیں کرتے تھے ان کو وہاں کا حصہ دار کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ ۔ اس مقدمہ کو ہائی کورٹ ایک نیا رُخ دے رہا ہے جو بہت ہی خطرناک ہے‘‘۔
’’بابری مسجد کی شہادت کو ۲۶؍ سال ہو گئے ہیں۔ ۲۰۱۱ سے ابھی تک ۷ سالوں میں مؤقر عدالتوں نے اس مقدمہ پر کچھ بھی پیش رفت نہیں کیا ہے۔ اب جب کہ سپریم کورٹ میں مقدمہ کی سنوائی چل رہی ہے تو فسطائی طاقتیں دستور اور قانون کو بالائے طاق رکھ کر، عدالت اور انتظامیہ پر دباؤ بنانے کے لیے ملک کا ماحول خراب کرنے پر تُلی ہوئی ہیں۔ جس کے لیے نفرت آمیز بیان بازیاں اور سرگرمیاں عروج پر ہیں‘‘۔
قومی صدر نے کہا کہ : ’’اس وقت اقلیتی طبقات کو انصاف نہیں مل رہا ہے۔ مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتیں مل کر ہمارے ملک میں مذہبی منافرت کو ہوا دے رہی ہیں۔ جو جمہوری طور پر منتخب حکومت کے اُصولوں کے خلاف ہے ؛ اس لیے آل انڈیا امامس کونسل نے صدر جمہوریہ (راشٹرپتی) رامناتھ کووند اور وزیر داخلہ (ہوم منسٹر) راجناتھ سنگھ میمورنڈم پیش کیا ہے۔
میمورنڈم میں راشٹرپتی اور ہوم منسٹر کو حالات سے آگاہ کر کے اقلیتوں کو صحیح اور مبنی بر انصاف فیصلہ دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ نیز یہ بھی کہا ہے کہ انہدام مسجد کے ۶۸ مجرمین جن کا نام مؤقر لبراہن کمیشن نے ظاہر کیا ہے۔موجودہ حکومتیں قانونی طور پر اُن کو ہاتھ لگانے تک کی ہمت نہیں کر رہی ہیں۔جب کہ ان میں سے کچھ لوگ بے غیر سزا کاٹے دنیا سے بھی گزر چکے ہیں۔ کسی بھی گورنمنٹ کا ایسا طرزِ عمل قانون اور دستور کے لیے خطرناک ہے۔ انصاف میں تاخیر انصاف کا انکار ہوتا ہے۔
اس لیے آل انڈیا امامس کونسل وزیر داخلہ اور صدر جمہوریہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ بابری مسجد کو دوبارہ اسی جگہ تعمیر کرائی جائے۔ مجرمین کو قانونی سزا دلائی جائے اور مظلومین کو جلد سے جلد انصاف دلایا جائے ؛ نیز موجودہ حکومتیں جو مسلمانوں کے خلاف اقدامات کر رہی ہیں ان کو روکا جائے ۔ تحفظ کو لے کر مسلمانوں میں جو بے اطمینانی پائی جا رہی ہے ،اس کو ختم کر ان کو تحفظ کی یقین دہانی کرائی جائے۔اور صدر جمہوریہ فوری مداخلت کر کے، ہوم منسٹر اور یوپی حکومت کو ہدایت جاری کرے کہ آر ایس ایس اور اس کی ہمنوا جماعتوں کی طرف مسلمانوں کے خلاف جو سرگرمیاں چل رہی ہیں۔ان کے خلاف مذہبی منافرت پھیلا کر ان کو مارا ،اور خوف پیدا کیا جارہا اس کو فوراً روکا جائے۔
ایم، ایچ، احرار سوپولوی
قومی ترجمان: آل انڈیا امامس کونسل

 

Location


DELHI
F-20, III Floor, Shaheen Bagh, Jamia Nagar, Okhla, New Delhi 110025, India

 

Contact

Give us a call at

+91 98809 80310

+91 99607 19466

Email us at allindiaimamscouncil@gmail.com

 

Newsletters

Subscribe and get the latest updates, news, and more...