Error message

Deprecated function: The each() function is deprecated. This message will be suppressed on further calls in menu_set_active_trail() (line 2405 of /home/aus661lbl031/public_html/imamscouncil.org/includes/menu.inc).

بابری مسجد، حق ملکیت کا مسئلہ ہے آستھا کا نہیں، نماز کہیں بھی ہو سکتی ہے ؛ مسجد قیامت تک تبدیل نہیں ہو سکتی۔ آل انڈیا امامس کونسل

پریس ریلیز
نئی دہلی،۲۹؍ ستمبر، ۲۰۱۸ء ؁، مطابق: ۱۸؍محرام الحرام، ۱۴۴۰ھ ؁۔
بابری مسجد، حق ملکیت کا مسئلہ ہے آستھا کا نہیں، نماز کہیں بھی ہو سکتی ہے ؛ مسجد قیامت تک تبدیل نہیں ہو سکتی۔ آل انڈیا امامس کونسل
ناجائز تعلقات کو جرم کے دائرہ سے باہر قرار دینا ، ملک کی نسل و تہذیب کو برباد کردینے کی فسطائی سازش کا نتیجہ ۔ احمد بیگ ندوی
آل انڈیا امامس کونسل کے قومی صدر مولانا محمد احمد بیگ ندوی نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ: ’’سپریم کورٹ اب تہذیب و کلچر کو مغربیت زدہ کرنے اور اپنی نسلوں کو بھی بربادی کے گڈھے میں دھکیلنے سے ہچکچاہٹ محسوس نہیں کر رہا ہے۔کبھی ہم جنسی جیسی غیر فطری بدعملی کو روا قرار دیا جاتا ہے تو کبھی آزادی کے نام پر شادی شدہ مرد و عورت کے دوسروں کے ساتھ ناجائز تعلقات کو جرم کے دائرے سے باہر گردانا جاتا ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس طرح کے سارے فیصلے دستوری دفعات کو منسوخ کر کے لیے جا رہے ہیں ۔ کیا یہ فیصلے سواسو کروڑ ہندستانیوں کے حق میں لیے جا رہے ہیں یا ان کے خلاف؟ اور کیا ملک کے عوام اپنی ماں ،بہن ،بیوی اور بیٹی کے لیے اس طرح کے فیصلے کو کبھی قبول کریں گے؟‘‘۔
قومی صدر مولانا محمد احمد بیگ ندوی نے کہا کہ: ’’ ہندستانی تہذیب و کلچر کے محافظ آئینی دفعات (377 ، 497 ، اور 198) کو کالعدم قرار دے کر اس طرح کے فیصلوں کے پیچھے کونسی محرکات کام کر رہی ہیں، اس پر غور کرنے اور انھیں عوام کے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ملک میں نسل و خاندان کو برباد کردینے والے اور گنگاجمنی تہذیب و تمدن کو شرمسار کرنے دینے والے اس طرح کے غیر دستوری فیصلے دستور کو کمزور کرنے کی سازش کا نتیجہ ہو سکتا ہے‘‘۔
انھوں نے کہا کہ :’’رافیل گھوٹالہ، NRC ، نوٹ بندی اور مہنگائی جیسے اہم مدعوں اور ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے بی جے پی حکومت دستور کے ساتھ اس طرح کا کھلواڑ کرا رہی ہے۔جبکہ ملک کے مستقبل کے لیے اس طرح کی ناعاقبت اندیشانہ فیصلے بہت ہی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں‘‘۔
قومی صدر مولانا احمد بیگ نے نماز اور مسجد سے متعلق فیصلے پر گفتگو کرتے ہوے کہا کہ :’’ بابری مسجد کا مسئلہ، حق ملکیت کا مسئلہ ہے آستھا کا نہیں ہے۔ نماز کہیں بھی ہو سکتی ہے ؛لیکن جہاں مسجد ایک مرتبہ بن گئی وہ قیامت تک مسجد ہی رہتی ہے ، اس کو مسلمان بھی تبدیل نہیں کر سکتا ہے۔ نماز کے لیے مسجد کے عدم لزوم سے متعلق فیصلے کا بابری مسجد حق ملکیت کے مقدمہ سے کوئی تعلق نہیں اور اس کا مقدمہ پر کوئی اثر بھی نہیں پڑے گا ‘‘۔
لہٰذا آل انڈیا امامس کونسل سپریم کورٹ کے اس غیر آئینی قدم کی پرزور مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اگر مودی حکومت انسانیت پر یقین رکھتی ہے تو دستوری تحفظ کو یقینی بنائے اور ملکی تہذیب و کلچر اور یہاں کے سماجی احوال کو برباد ہونے سے روکے اور اس طرح کے فیصلوں کو قانون سازی کر کے فوری طور پر کالعدم قرار دے۔اور تمام ہندستانی عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بلا امتیازِ مذہب و مشرب نسل و خاندان اور تہذیب و کلچر کو برباد کر دینے والے فیصلے کے خلاف ایک ساتھ آواز اُٹھائیں۔
ایم، ایچ، احرار قاسمی سوپولوی
قومی ترجمان: آل انڈیا امامس کونسل

 

Location


DELHI
F-20, III Floor, Shaheen Bagh, Jamia Nagar, Okhla, New Delhi 110025, India

 

Contact

Give us a call at

+91 98809 80310

+91 99607 19466

Email us at allindiaimamscouncil@gmail.com

 

Newsletters

Subscribe and get the latest updates, news, and more...